کرتے ہیں اپنے بال دکھا مبتلا مجھے
کرتے ہیں اپنے بال دکھا مبتلا مجھے
اس پینچ سے بتاں کے نکالے خدا مجھے
دل نے مرے جو دی ہے بڑھا ٹوٹنے کی قدر
کرتی ہے بال بال سے چینی دعا مجھے
جور و جفا میں یار بہت ہو گیا دلیر
کرتے تو کی پہ راس نہ آئی وفا مجھے
میں خاک تو ہوا پہ میری آبرو رہی
کرتے تھے دیدہ خوار جدا دل جدا مجھے
میں گر رہا ہوں یار کے قدموں اوپر یقیںؔ
آئی ہے راس سایۂ گل کی ہوا مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.