خیرات بٹ رہی ہے محبت کے نام کی
خیرات بٹ رہی ہے محبت کے نام کی
بجھنے لگی ہے پیاس دل تشنہ کام کی
دشمن کو میں نے پیار سے مفتوح کر لیا
آ دیکھ دل کشی تو مرے انتقام کی
مجھ کو خبر ہے اس لیے میں پوچھتا نہیں
اوقات کیا ہے تیری نظر میں غلام کی
کچھ تو پتہ چلے کہ گزاری ہے کس کے ساتھ
جو شام تو نے رکھی تھی اک میرے نام کی
کس مرتبے مقام کی چاہت ہو اس کو دوست
لاحق ہو جس کو فکر قیام و طعام کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.