خود سے میں بے یقیں ہوا ہی نہیں
آسماں تھا زمیں ہوا ہی نہیں
عشق کہتے ہیں سب جسے ہم سے
وہ گناہ حسیں ہوا ہی نہیں
وصل بھی اس کا اس کے جیسا تھا
جو گماں سے یقیں ہوا ہی نہیں
خانۂ دل سرا کی صورت ہے
کوئی اس میں مکیں ہوا ہی نہیں
لاکھ چاہا مگر سخن میرا
قابل آفریں ہوا ہی نہیں
میں بھی خود کو سنوارتا محسنؔ
آئنہ نکتہ چیں ہوا ہی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.