خدا نے لاج رکھی میری بے نوائی کی

اقبال اشہر

خدا نے لاج رکھی میری بے نوائی کی

اقبال اشہر

MORE BYاقبال اشہر

    خدا نے لاج رکھی میری بے نوائی کی

    بجھا چراغ تو جگنو نے رہنمائی کی

    ترے خیال نے تسخیر کر لیا ہے مجھے

    یہ قید بھی ہے بشارت بھی ہے رہائی کی

    قریب آ نہ سکی کوئی بے وضو خواہش

    بدن سرائے میں خوشبو تھی پارسائی کی

    متاع درد ہے دل میں تو آنکھ میں آنسو

    نہ روشنی کی کمی ہے نہ روشنائی کی

    اب اپنے آپ کو قطرہ بھی کہہ نہیں سکتا

    برا کیا جو سمندر سے آشنائی کی

    اسے بھی شہ نے مصاحب بنا لیا اپنا

    جس آدمی سے توقع تھی لب کشائی کی

    وہی تو مرکزی کردار ہے کہانی کا

    اسی پہ ختم ہے تاثیر بے وفائی کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY