خوش فہمیاں بہت تھیں وہ منظر بھی آئے گا
خوش فہمیاں بہت تھیں وہ منظر بھی آئے گا
جو شخص جا چکا ہے پلٹ کر بھی آئے گا
بربادیوں پہ میری بہت خوش نہ ہو کہ اب
ان آندھیوں کی زد میں ترا گھر بھی آئے گا
مٹی کا جسم لے کے چلے ہو تو سوچ لو
اک روز راستے میں سمندر بھی آئے گا
میں ایسے دیکھتی ہوں ہر اک رات چاند کو
جیسے وہ آسماں سے زمیں پر بھی آئے گا
دنیا کے اس سلوک کا غم شمعؔ کس لیے
جب آئنہ ہو کوئی تو پتھر بھی آئے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.