خوشبو ہے زعفران کی ایوان شہر آج
خوشبو ہے زعفران کی ایوان شہر آج
ہستی کوئی ضرور ہے مہمان شہر آج
ٹکرائیں جام و مینا و فنجان شہر آج
پیران پیر ہے کوئی رندان شہر آج
سب چوک پر ہیں جمع حسینوں کی ٹولیاں
ہے بیچ میں فراز مری جان شہر آج
اب دل ہمارے آج سے اس کے اسیر ہیں
حاکم سے طے ہوا ہے یہ تاوان شہر آج
کہتے ہیں حسن یوسف کنعان مصر سے
بے ہوش کچھ ہوئی ہیں حسینان شہر آج
سب تالیاں بجائیں تو ہو ختم یہ غزل
صفوتؔ کے ساتھ مل کے جوانان شہر آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.