خوشی سے زیست کا ہر دکھ اٹھائے جاتے ہیں
خوشی سے زیست کا ہر دکھ اٹھائے جاتے ہیں
ہم اہل دل کی روایت نبھائے جاتے ہیں
جنوں کی راہ میں بجھ بجھ کے اب بھی دیوانے
چراغ شعلۂ جاں سے جلائے جاتے ہیں
وہ فرد جرم ہی اے منصفو نہیں میری
مجھے یہ فیصلے جس پر سنائے جاتے ہیں
تعلقات میں دو طرفہ سرد مہری ہے
بس ایک وضع کو دونوں نبھائے جاتے ہیں
خوشی تو ڈھونڈے بھی اس دور میں نہیں ملتی
یہ کون لوگ ہیں جو مسکرائے جاتے ہیں
- کتاب : Quarterly TASTEER Lahore (Pg. 167)
- Author : Naseer Ahmed Nasir
- مطبع : Room No.-1,1st Floor, Awan Plaza, Shadman Market, Lahore (Issue No. 5,6 April To Sep. 1998)
- اشاعت : Issue No. 5,6 April To Sep. 1998
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.