خواب میں کس طرح دیکھوں تجھ کو بے خوابی کے ساتھ

خواب میں کس طرح دیکھوں تجھ کو بے خوابی کے ساتھ
انعام اللہ خاں یقین
MORE BYانعام اللہ خاں یقین
خواب میں کس طرح دیکھوں تجھ کو بے خوابی کے ساتھ
جمع آسائش کہاں ہوتی ہے بیتابی کے ساتھ
کر دیا آنکھوں کے رونے نے مرے دل کو خنک
کب تلک گرمی کروں اس مردم آبی کے ساتھ
غنچہ رنگینی کو اپنی چاہئے تہ کر رکھے
اس کو کیا نسبت ہے ان لب ہائے عنابی کے ساتھ
پونچھتے اس منہ کے ہو جاتا ہے سب رنگیں رومال
گل کہاں ہوتا ہے ایسے رنگ و شادابی کے ساتھ
مفت نہیں لیتے وفا کو شہر خوباں میں یقیںؔ
کس قدر بے قدر ہے یہ جنس نایابی کے ساتھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.