خواب تعبیر میں ڈھلتے ہیں یہاں سے آگے

لیاقت علی عاصم

خواب تعبیر میں ڈھلتے ہیں یہاں سے آگے

لیاقت علی عاصم

MORE BYلیاقت علی عاصم

    خواب تعبیر میں ڈھلتے ہیں یہاں سے آگے

    آ نکل جائیں شب وہم و گماں سے آگے

    رنگ پیراہن خاکی کا بدلنے کے لیے

    مجھ کو جانا ہے ابھی ریگ رواں سے آگے

    اک قدم اور سہی شہر تنفس سے ادھر

    اک سفر اور سہی کوچۂ جاں سے آگے

    اس سفر سے کوئی لوٹا نہیں کس سے پوچھیں

    کیسی منزل ہے جہان گزراں سے آگے

    میں بہت تیز ہواؤں کی گزر گاہ میں ہوں

    ایک بستی ہے کہیں میرے مکاں سے آگے

    میری آوارگی یوں ہی تو نہیں ہے عاصمؔ

    کوئی خوشبو ہے مری عمر رواں سے آگے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY