Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

خوابوں کی وادیوں میں دلوں کو پھرائے ہے

نصیر پرواز

خوابوں کی وادیوں میں دلوں کو پھرائے ہے

نصیر پرواز

خوابوں کی وادیوں میں دلوں کو پھرائے ہے

دریا میں جب بھی لہر کوئی سر اٹھائے ہے

نس نس میں رچ گیا ہے تکلم کا بانکپن

آنکھوں کی خامشی بھی مجھے گدگدائے ہے

رشتوں کی دھوپ شام ہوئی اور ڈھل گئی

اب اس سے کیا گلہ وہ اگر بھول جائے ہے

دروازے کھل گئے ہیں بہت تیز ہے ہوا

تنکا سمجھ کے کوئی مجھے بھی اڑائے ہے

لمحے لرز رہے ہیں فضائیں اداس ہیں

شمع تصورات کی لو تھرتھرائے ہے

میرے نقوش پا مجھے لوٹا دے رہ گزر

اک کاروان غم مرے پیچھے بھی آئے ہے

ہے تیز دھوپ سایۂ قربت تلاش کر

ایسے میں گھومنے کوئی باہر بھی جائے ہے

پروازؔ زندگی کو عبث چھیڑتے ہیں آپ

بیچاری جانے کتنوں کے نخرے اٹھائے ہے

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے