کسی بھی حال میں مجھ سے یہ سمجھوتا نہیں ہوگا
کسی بھی حال میں مجھ سے یہ سمجھوتا نہیں ہوگا
ترے قدموں میں سر رکھ دوں نہیں ایسا نہیں ہوگا
عجوبے سات ہی جس کو نظر آئے ہیں دنیا میں
مرا دعویٰ ہے اس نے آپ کو دیکھا نہیں ہوگا
میں کتنا بے خبر تھا اس سے مل کے آج یہ جانا
مجھے لگتا تھا وہ دریا ہے وہ پیاسا نہیں ہوگا
مجھے وعدے پہ اس کے آج بھی پورا بھروسہ ہے
وہ اس کے ساتھ تو ہوگا مگر اس کا نہیں ہوگا
ذرا سی بات پر جو آ گیا گھر سے عدالت تک
وہ سمجھوتہ تو ہو سکتا ہے پر رشتہ نہیں ہوگا
تم اپنی پیاس لے کر جس کی چوکھٹ سے چلے آئے
وہ صحرا ہو گیا ہوگا وہ اب دریا نہیں ہوگا
بدلتے وقت نے سب کچھ بدل ڈالا رتنؔ دیکھو
تمہیں اب بھی یہی لگتا ہے وہ بدلا نہیں ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.