کسی کا شیشۂ دل توڑ کر جایا نہیں کرتے
کسی کا شیشۂ دل توڑ کر جایا نہیں کرتے
مکین دل مکاں کو اس طرح ڈھایا نہیں کرتے
تم اپنے آنسوؤں کو روک لیتے اپنی پلکوں پر
کسی کا راز غم غیروں سے کھلوایا نہیں کرتے
ہم اہل دل ہیں دستور وفا سے خوب واقف ہیں
تڑپ کر جان دے دیتے ہیں تڑپایا نہیں کرتے
یہ غم تو آرزوؤں کی حسیں سوغات ہے اے دل
تو پھر ہنگامہ ہائے غم سے گھبرایا نہیں کرتے
کسی کا راز درد دل چھپانا شرط الفت ہے
تو اس کو دیکھ کر محفل میں چھپ جایا نہیں کرتے
اسی بے درد کا غم حد سے جب بڑھ جائے ہے اے دل
تو شعر از خود چلے آتے ہیں ہم لایا نہیں کرتے
نہ کھل جائیں کہیں اسرار سربستہ سر محفل
ہم ان کی انجمن میں اس لئے جایا نہیں کرتے
شمیم آؤ تمہیں آداب گلشن ہم بتاتے ہیں
نکل کر برگ گل سے گل کو ٹھکرایا نہیں کرتے
سحرؔ کا دل ہے یہ بازیچۂ طفلاں نہیں پیارے
کھلونے سے تمناؤں کو بہلایا نہیں کرتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.