کسی کی دین ہے لیکن مری ضرورت ہے

ذیشان ساحل

کسی کی دین ہے لیکن مری ضرورت ہے

ذیشان ساحل

MORE BYذیشان ساحل

    کسی کی دین ہے لیکن مری ضرورت ہے

    جنوں کمال نہیں ہے کمال وحشت ہے

    میں زندگی کے سبھی غم بھلائے بیٹھا ہوں

    تمہارے عشق سے کتنی مجھے سہولت ہے

    گزر گئی ہے مگر روز یاد آتی ہے

    وہ ایک شام جسے بھولنے کی حسرت ہے

    زمانے والے تو شاید نہیں کسی قابل

    جو ملتا رہتا ہوں ان سے مری مروت ہے

    ہوا بہار کی آئے گی اور میں چوموں گا

    وہ سارے پھول کہ جن میں تری شباہت ہے

    خدا رکھے تری آنکھوں کی دل نوازی کو

    تری نگاہ مری عمر بھر کی دولت ہے

    ترے بغیر بجھا جا رہا ہوں اندر سے

    جو ٹھیک ٹھاک ہوں باہر سے تو یہ عادت ہے

    جو ہو سکے تو مجھے اپنے پاس رکھ لینا

    ترا وصال تو اک ثانوی سعادت ہے

    ترے بغیر کوئی کیسے زندہ رہتا ہے

    مگر میں ہوں کہ یہی عشق کی روایت ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Wajah-e-Begangi (Pg. 36)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY