کسی نے وعدۂ فردا پہ ٹال رکھا ہے
سوال اپنی جگہ پھر سوال رکھا ہے
پہیلیوں سے کہیں الجھنیں سلجھتی ہیں
مجھے تو تم نے مصیبت میں ڈال رکھا ہے
تمہیں خبر بھی ہے سورج کے پوجنے والو
فضا میں کس نے یہ شعلہ اچھال رکھا ہے
سنا ہے جس پہ لکھی تھی مری غزل اس نے
کتاب سے وہ ورق ہی نکال رکھا ہے
کسے خبر ہے کہ ہم نے تمہارے خوابوں کو
بڑے خلوص سے آنکھوں میں پال رکھا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.