کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے

شکیل بدایونی

کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے

شکیل بدایونی

MORE BYشکیل بدایونی

    کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے

    ترا غم رہے سلامت مرے دل میں کیا نہیں ہے

    کہاں جام غم کی تلخی کہاں زندگی کا درماں

    مجھے وہ دوا ملی ہے جو مری دوا نہیں ہے

    تو بچائے لاکھ دامن مرا پھر بھی ہے یہ دعویٰ

    ترے دل میں میں ہی میں ہوں کوئی دوسرا نہیں ہے

    تمہیں کہہ دیا ستمگر یہ قصور تھا زباں کا

    مجھے تم معاف کر دو مرا دل برا نہیں ہے

    مجھے دوست کہنے والے ذرا دوستی نبھا دے

    یہ مطالبہ ہے حق کا کوئی التجا نہیں ہے

    یہ اداس اداس چہرے یہ حسیں حسیں تبسم

    تری انجمن میں شاید کوئی آئنا نہیں ہے

    مری آنکھ نے تجھے بھی بہ خدا شکیلؔ پایا

    میں سمجھ رہا تھا مجھ سا کوئی دوسرا نہیں ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    طلعت محمود

    طلعت محمود

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY