کوئی نغمہ بنوں چاندنی نے کہا چاندنی کے لئے ایک تازہ غزل

عرفان ستار

کوئی نغمہ بنوں چاندنی نے کہا چاندنی کے لئے ایک تازہ غزل

عرفان ستار

MORE BY عرفان ستار

    کوئی نغمہ بنوں چاندنی نے کہا چاندنی کے لئے ایک تازہ غزل

    کوئی تازہ غزل پھر کسی نے کہا پھر کسی کے لئے ایک تازہ غزل

    زخم فرقت کو پلکوں سے سیتے ہوئے سانس لینے کی عادت میں جیتے ہوئے

    اب بھی زندہ ہو تم زندگی نے کہا زندگی کے لئے ایک تازہ غزل

    اس کی خواہش پہ تم کو بھروسا بھی ہے اس کے ہونے نہ ہونے کا جھگڑا بھی ہے

    لطف آیا تمہیں گمرہی نے کہا گمرہی کے لئے ایک تازہ غزل

    ایسی دنیا میں کب تک گزارا کریں تم ہی کہہ دو کہ کیسے گوارا کریں

    رات مجھ سے مری بے بسی نے کہا بے بسی کے لئے ایک تازہ غزل

    منظروں سے بہلنا ضروری نہیں گھر سے باہر نکلنا ضروری نہیں

    دل کو روشن کرو روشنی نے کہا روشنی کے لئے ایک تازہ غزل

    میں عبادت بھی ہوں میں محبت بھی ہوں زندگی کی نمو کی علامت بھی ہوں

    میری پلکوں پہ ٹھہری نمی نے کہا اس نمی کے لئے ایک تازہ غزل

    آرزوؤں کی مالا پرونے سے ہیں یہ زمیں آسماں میرے ہونے سے ہیں

    مجھ پہ بھی کچھ کہو آدمی نے کہا آدمی کے لئے ایک تازہ غزل

    اپنی تنہائی میں رات میں تھا مگن ایک آہٹ ہوئی دھیان میں دفعتاً

    مجھ سے باتیں کرو خامشی نے کہا خامشی کے لئے ایک تازہ غزل

    جب رفاقت کا ساماں بہم کر لیا میں نے آخر اسے ہم قدم کر لیا

    اب مرے دکھ سہو ہمرہی نے کہا ہم رہی کے لئے ایک تازہ غزل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY