کوئی ستارۂ گرداب آشنا تھا میں

سلیم احمد

کوئی ستارۂ گرداب آشنا تھا میں

سلیم احمد

MORE BY سلیم احمد

    کوئی ستارۂ گرداب آشنا تھا میں

    کہ موج موج اندھیروں میں ڈوبتا تھا میں

    اس ایک چہرے میں آباد تھے کئی چہرے

    اس ایک شخص میں کس کس کو دیکھتا تھا میں

    نئے ستارے مری روشنی میں چلتے تھے

    چراغ تھا کہ سر راہ جل رہا تھا میں

    سفر میں عشق کے اک ایسا مرحلہ آیا

    وہ ڈھونڈتا تھا مجھے اور کھو گیا تھا میں

    تمام عمر کا حاصل سراب و تشنہ لبی

    مرا قصور یہی تھا کہ سوچتا تھا میں

    بگڑ رہا تھا میں دنیا کے زاویے سے مگر

    اک اور زاویہ تھا جس سے بن رہا تھا میں

    نہیں رہا میں ترے راستے کا پتھر بھی

    وہ دن بھی تھے ترے احساس میں خدا تھا میں

    مجھے گلہ نہ کسی سنگ کا نہ آہن کا

    اسی نے توڑ دیا جس کا آئینہ تھا میں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کوئی ستارۂ گرداب آشنا تھا میں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY