کوئی سوچے نہ ہمیں کوئی پکارا نہ کرے

ابرار احمد

کوئی سوچے نہ ہمیں کوئی پکارا نہ کرے

ابرار احمد

MORE BYابرار احمد

    کوئی سوچے نہ ہمیں کوئی پکارا نہ کرے

    ہم کہیں ہیں کہ نہیں ہیں کوئی چرچا نہ کرے

    رات افسوں ہے کہیں کا نہیں رہنے دیتی

    دن کو سوئے نہ کوئی رات کو جاگا نہ کرے

    ہم نکل آئے ہیں اب دھوپ میں جلنے کے لیے

    کوئی بادل نہیں بھیجے کوئی سایہ نہ کرے

    ان گنت آنکھوں میں ہم جلتے رہے بجھتے رہے

    اب بھلے خواب ہمارا کوئی دیکھا نہ کرے

    ہم نے اک شہر بسا رکھا ہے دیواروں میں

    کام جو دل نے کیا چشم تماشا نہ کرے

    کوئی اب جا کے ذرا دیکھے تو اس مٹی کو

    ایسے سیراب کیا ہے کوئی دریا نہ کرے

    گو فراموشی کی تکمیل ہوا چاہتی ہے

    پھر بھی کہہ دو کہ ہمیں یاد وہ آیا نہ کرے

    ہم اسے رنج تمنا سے تو بھر سکتے ہیں

    اور یہ دل ہے کہ اب کوئی تقاضا نہ کرے

    وار کرنا ہے اگر ہم پہ تو وہ کھل کر آئے

    اور بھولے سے بھی یہ کام وہ تنہا نہ کرے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کوئی سوچے نہ ہمیں کوئی پکارا نہ کرے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY