کچھ نہیں چشم طلب کوئے بتاں سے آگے
کچھ نہیں چشم طلب کوئے بتاں سے آگے
کوئی بڑھتا ہی نہیں وہم و گماں سے آگے
ایک آواز ہے اقلیم سخن کے نزدیک
ایک سایہ ہے مرے سایۂ جاں سے آگے
لفظ تاثیر کی حدت سے پگھل جاتے ہیں
اہل دل آج بھی ہیں اہل زباں سے آگے
دشت امروز اتارے گا یہ فردا کا نقاب
دیکھ پائے گی نظر کون و مکاں سے آگے
عشق زردار ہے رکھتا ہے وفا کی دولت
عقل نکلے تو کبھی سود و زیاں سے آگے
ان کی صحبت تو میسر رہی دل کو لیکن
گفتگو بڑھ نہ سکی حسن بیاں سے آگے
جو بھی نکلے ہیں وہ معدوم ہوئے ہیں آخر
قافلے رہرو گم کردہ نشاں سے آگے
سیکھ پائے نہ مظفرؔ کبھی آداب جنوں
ہم نے سوچا ہی نہیں کار جہاں سے آگے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.