کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئی

ندا فاضلی

کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئی

ندا فاضلی

MORE BYندا فاضلی

    کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئی

    جس کو چاہا اسے اپنا نہ سکے جو ملا اس سے محبت نہ ہوئی

    جس سے جب تک ملے دل ہی سے ملے دل جو بدلا تو فسانہ بدلا

    رسم دنیا کو نبھانے کے لیے ہم سے رشتوں کی تجارت نہ ہوئی

    دور سے تھا وہ کئی چہروں میں پاس سے کوئی بھی ویسا نہ لگا

    بے وفائی بھی اسی کا تھا چلن پھر کسی سے یہ شکایت نہ ہوئی

    چھوڑ کر گھر کو کہیں جانے سے گھر میں رہنے کی عبادت تھی بڑی

    جھوٹ مشہور ہوا راجا کا سچ کی سنسار میں شہرت نہ ہوئی

    وقت روٹھا رہا بچے کی طرح راہ میں کوئی کھلونا نہ ملا

    دوستی کی تو نبھائی نہ گئی دشمنی میں بھی عداوت نہ ہوئی

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    چندن داس

    چندن داس

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے