کیوں نہ ہوں شاد کہ ہم راہ گزر میں ہیں ابھی

عنبر بہرائچی

کیوں نہ ہوں شاد کہ ہم راہ گزر میں ہیں ابھی

عنبر بہرائچی

MORE BYعنبر بہرائچی

    کیوں نہ ہوں شاد کہ ہم راہ گزر میں ہیں ابھی

    دشت بے سبز میں اور دھوپ نگر میں ہیں ابھی

    سرخ آذر ہی مرے زخموں پہ نہ ہو یوں مسرور

    کئی شہپر مرے ٹوٹے ہوئے پر میں ہیں ابھی

    ان دھندلکوں کی ہر اک چال تو شاطر ہے مگر

    نقرئی نقش مرے دست ہنر میں ہیں ابھی

    عمر بھر میں تو رہا خانہ بدوشی میں ادھر

    کچھ کبوتر مرے اسلاف کے گھر میں ہیں ابھی

    ایک مدت سے کوئی سبز نہ ابھرا اس میں

    گھونسلے چیل کے بے برگ شجر میں ہیں ابھی

    شہر کی دھول فضائیں ہی مقدر میں رہیں

    آم کے بور مگر میری نظر میں ہیں ابھی

    راکھ کے ڈھیر پہ ماتم نہ کرو دیکھو بھی

    کئی شعلے کسی بے جان شرر میں ہیں ابھی

    ایک ساحر کبھی گزرا تھا ادھر سے عنبرؔ

    جائے حیرت کہ سبھی اس کے اثر میں ہیں ابھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY