لوگ صبح و شام کی نیرنگیاں دیکھا کیے

حسن نجمی سکندرپوری

لوگ صبح و شام کی نیرنگیاں دیکھا کیے

حسن نجمی سکندرپوری

MORE BYحسن نجمی سکندرپوری

    لوگ صبح و شام کی نیرنگیاں دیکھا کیے

    اور ہم چپ چاپ ماضی کے نشاں دیکھا کیے

    عقل تو کرتی رہی دامان ہستی چاک چاک

    ہم مگر دست جنوں میں دھجیاں دیکھا کیے

    خنجروں کی تھی نمائش ہر گلی ہر موڑ پر

    اور ہم کمرے میں تصویر بتاں دیکھا کیے

    ہم تن آسانی کے خوگر ڈھونڈتے منزل کہاں

    دور ہی سے گرد راہ کارواں دیکھا کیے

    ہم کو اس کی کیا خبر گلشن کا گلشن جل گیا

    ہم تو اپنا صرف اپنا آشیاں دیکھا کیے

    موسم پرواز نے نجمیؔ پکارا تھا مگر

    پر سمیٹے ہم قفس کی تیلیاں دیکھا کیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY