معمورۂ افکار میں اک حشر بپا ہے

رضا ہمدانی

معمورۂ افکار میں اک حشر بپا ہے

رضا ہمدانی

MORE BY رضا ہمدانی

    معمورۂ افکار میں اک حشر بپا ہے

    ادراک بھی انساں کے لیے طرفہ بلا ہے

    ہر نقش اگر تیرا ہی نقش کف پا ہے

    پھر میرے لیے کوئی سزا ہے نہ جزا ہے

    ہونٹوں پہ ہنسی سینوں میں کہرام بپا ہے

    دیوانوں نے جینے کا چلن سیکھ لیا ہے

    اب دشت جنوں بھی جو سمٹ آئے عجب کیا

    دیوانہ کوئی لے کے ترا نام چلا ہے

    اک بار جو ٹوٹے تو کبھی جڑ نہیں سکتا

    آئینہ نہیں دل مگر آئینہ نما ہے

    اپنوں سے کبھی موت جدا کر نہیں سکتی

    جو ٹوٹ گیا ہاتھ وہ سینے پہ دھرا ہے

    ہم ذوق سماعت سے ہیں محروم وگرنہ

    ہر قطرۂ شبنم میں دھڑکنے کی صدا ہے

    وہ سامنے آئے ہیں کچھ اس طرفہ ادا سے

    آداب محبت کے بھی دل بھول گیا ہے

    دھڑکا یہ لگا ہے کہ سحر آئے نہ آئے

    اس غم سے سر شام ہی دل ڈوب رہا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY