معصوم خواہشوں کی پشیمانیوں میں تھا

ریاض مجید

معصوم خواہشوں کی پشیمانیوں میں تھا

ریاض مجید

MORE BYریاض مجید

    معصوم خواہشوں کی پشیمانیوں میں تھا

    جینے کا لطف تو انہیں نادانیوں میں تھا

    آنکھیں بچھاتے ہر کس و ناکس کی راہ میں

    یوں جذبۂ خلوص فراوانیوں میں تھا

    ندی میں پہروں جھانکتے رہتے تھے پل سے ہم

    کیا بھید تھا جو بہتے ہوئے پانیوں میں تھا

    پتھر بنے کھڑے تھے تجسس کے دشت میں

    دل گم طلسم شوق کی حیرانیوں میں تھا

    یوں رینگ رینگ کر نہ گزرتے تھے روز و شب

    دریائے زیست بھی کبھی جولانیوں میں تھا

    سنجیدگی کی گہری لکیروں میں ڈھل گیا

    معصومیت کا نور جو پیشانیوں میں تھا

    اک گھر بنا کے کتنے جھمیلوں میں پھنس گئے

    کتنا سکون بے سر و سامانیوں میں تھا

    دن آرزو کے یوں ہی اداسی میں کٹ گئے

    وہ اپنے دکھ میں اپنی پریشانیوں میں تھا

    اس کے لیے بھی زندگی پل پل عذاب تھی

    وہ بھی سلگتے وقت کے زندانیوں میں تھا

    وہ ضبط و اعتدال و توازن کہاں ریاضؔ

    معیار فن کہ جو کبھی یونانیوں میں تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY