Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

محکوم سہی پھر بھی علاقہ نہیں دیتے

محمد مستحسن جامی

محکوم سہی پھر بھی علاقہ نہیں دیتے

محمد مستحسن جامی

MORE BYمحمد مستحسن جامی

    محکوم سہی پھر بھی علاقہ نہیں دیتے

    ہم جان تو دے سکتے ہیں قبضہ نہیں دیتے

    اپنے ہی بھروسے پہ سفر کرنا کہ یہ لوگ

    منزل کا تو بتلاتے ہیں رستہ نہیں دیتے

    کم ظرف مکینوں سے الجھتے نہیں سائل

    کچھ لوگ ضرورت سے زیادہ نہیں دیتے

    دریا کبھی فطرت کے منافی نہیں چلتے

    صحرا کسی انجان کو سایہ نہیں دیتے

    ہم ہجر کے ماروں کو بھلا کیسے دلاسے

    بجھتی ہوئی قندیل کو پرسہ نہیں دیتے

    ہر ایک پہ کھلتے نہیں اسرار محبت

    ہر شخص کو دل جیسا خزانہ نہیں دیتے

    تھوکا ہوا افلاک کا آ جاتا ہے منہ پر

    شہباز کو پرواز کا طعنہ نہیں دیتے

    معلوم ہے تاثیر ترے نام کی جامیؔ

    ہم یوں ہی تو ہر جا پہ حوالہ نہیں دیتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 13-14-15 December 2024 - Jawaharlal Nehru Stadium , Gate No. 1, New Delhi

    Get Tickets
    بولیے