میں عکس آرزو تھا ہوا لے گئی مجھے

زیب غوری

میں عکس آرزو تھا ہوا لے گئی مجھے

زیب غوری

MORE BYزیب غوری

    میں عکس آرزو تھا ہوا لے گئی مجھے

    زندان آب و گل سے چھڑا لے گئی مجھے

    کیا بچ رہا تھا جس کا تماشا وہ دیکھتا

    دامن میں اپنے خاک چھپا لے گئی مجھے

    کچھ دور تک تو چمکی تھی میرے لہو کی دھار

    پھر رات اپنے ساتھ بہا لے گئی مجھے

    جز تیرگی نہ ہاتھ لگا اس کا کچھ سراغ

    کن منزلوں سے گرد نوا لے گئی مجھے

    کس کو گمان تھا کہ کہاں جا رہا ہوں میں

    اک شام آئی اور بلا لے گئی مجھے

    پرواز کی ہوس نے اسیر فلک رکھا

    رخصت ہوئی تو دام میں ڈالے گئی مجھے

    ساکت کھڑا تھا وقت مگر تیشہ زن ہوا

    پتھر کی تہہ سے زیبؔ نکالے گئی مجھے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    میں عکس آرزو تھا ہوا لے گئی مجھے نعمان شوق

    مأخذ :
    • کتاب : Karwaan-e-Ghazal (Pg. 266)
    • Author : Farooq Argali
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY