میں ایک بوند سمندر ہوا تو کیسے ہوا

فراغ روہوی

میں ایک بوند سمندر ہوا تو کیسے ہوا

فراغ روہوی

MORE BYفراغ روہوی

    میں ایک بوند سمندر ہوا تو کیسے ہوا

    یہ معجزہ مرے اندر ہوا تو کیسے ہوا

    یہ بھید سب پہ اجاگر ہوا تو کیسے ہوا

    کہ میرے دل میں ترا گھر ہوا تو کیسے ہوا

    نہ چاند نے کیا روشن مجھے نہ سورج نے

    تو میں جہاں میں منور ہوا تو کیسے ہوا

    نہ آس پاس چمن ہے نہ گل بدن کوئی

    ہمارا کمرہ معطر ہوا تو کیسے ہوا

    ذرا سی بات پہ اک غم گسار کے آگے

    میں اپنے آپے سے باہر ہوا تو کیسے ہوا

    سلگتے صحرا میں طوفاں کا سامنا تھا مجھے

    یہ معرکہ جو ہوا سر ہوا تو کیسے ہوا

    وہ جنگ ہار کے مجھ سے یہ پوچھتا ہے کہ میں

    بغیر تیغ مظفر ہوا تو کیسے ہوا

    سنا ہے امن پرستوں کا وہ علاقہ ہے

    وہیں شکار کبوتر ہوا تو کیسے ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY