Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میں کھو چکا ہوں عجب راستے بناتے ہوئے

نسیم شیخ

میں کھو چکا ہوں عجب راستے بناتے ہوئے

نسیم شیخ

میں کھو چکا ہوں عجب راستے بناتے ہوئے

تلاش کرتا ہوں اب زائچے بناتے ہوئے

خود اپنی راہ کی دیوار کر دیا خود کو

محبتوں میں نئے زاویہ بناتے ہوئے

بچھا کے جھیل تخیل کے ایک صحرا میں

تجھے بھلاؤں گا میں دائرے بناتے ہوئے

نکل چکا ہوں میں اپنی حدود سے آگے

نئی ردیف نئے قافیے بناتے ہوئے

یہ حادثہ بھی مجھے پیش آ گیا افسوس

کہ آئنہ سا ہوا آئنے بناتے ہوئے

نگل چکا ہوں ہزاروں ہی جام تلخی کے

سرور جاں کے لیے ذائقے بناتے ہوئے

زمیں سے ابھرا تو پھر آسماں نے کچلا مجھے

کہیں کا میں نہ رہا مرتبے بناتے ہوئے

خود اپنے پاؤں کی زنجیر بن گیا میں تو

دلوں کے بیچ نئے سلسلے بناتے ہوئے

پلٹ کے دیکھا نہیں میں نے زندگی کی طرف

میں دوڑتا رہا بس ہم کو تھے بناتے ہوئے

ملی ہیں موج نسیمیؔ کی قربتیں مجھ کو

عقیدتوں کے نئے ضابطے بناتے ہوئے

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے