میں خوب اہل جہاں دیکھے اور جہاں دیکھا
میں خوب اہل جہاں دیکھے اور جہاں دیکھا
پر آشنا کوئی دیکھا نہ مہرباں دیکھا
ہمیشہ منع تو کرتا تھا باغ سے ہم کو
کچھ حال اب گل و گلشن کا باغباں دیکھا
طلب کمال کی کوئی نہ کیجیو زنہار
کہ میں یہ کر کے فضولی بہت زیاں دیکھا
نہ جانے کون سی ساعت چمن سے بچھڑے تھے
کہ آنکھ بھر کے نہ پھر سوئے گلستاں دیکھا
سنے کو دیکھے پہ ہم کس طرح سے دیں ترجیح
خدا تو ہم نے سنا ہے تمہیں بتاں دیکھا
برنگ غنچہ بہار اس چمن کی سنتے تھے
پہ جوں ہی آنکھ کھلی موسم خزاں دیکھا
نہ کہتے تھے تجھے قائمؔ کہ دل کسی کو نہ دے
مزا کچھ اس کا بھلا تو نے اے میاں دیکھا
- Deewan-e-Qaem Chandpuri (Rekhta Website)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.