Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میں کیا بتاؤں کہ مقصود جستجو کیا ہے

سراج الدین سراج

میں کیا بتاؤں کہ مقصود جستجو کیا ہے

سراج الدین سراج

میں کیا بتاؤں کہ مقصود جستجو کیا ہے

مری نگاہ کو صدیوں سے آرزو کیا ہے

یہ راز مجھ کو بتایا تری نگاہوں نے

جو خامشی ہے تکلم تو گفتگو کیا ہے

جو کوئی پوچھے تو میں خود بتا نہیں سکتا

مرے شعور میں مفہوم رنگ و بو کیا ہے

کسے خبر ہے کہ کب اس نے بولنا سیکھا

کوئی بتائے کہ تاریخ گفتگو کیا ہے

جب اس میں اہل جنوں ہی نہیں ہوئے شامل

تو پھر یہ شہر میں تقریب ہاؤ ہو کیا ہے

یہ ابرہا کے پجاری یہ اہرمن کے سپوت

انہیں خبر ہی نہیں ہے کہ صلح جو کیا ہے

وفور درد سے آنکھیں چھلکتی رہتی ہیں

میں مست غم ہوں مجھے حاجت سبو کیا ہے

اکھڑ گئے ہیں بہر گام پاؤں طوفاں کے

خدا ہو ساتھ تو پھر سازش عدو کیا ہے

سراجؔ بھول گئے تم بھی اس حقیقت کو

دیار ننگ میں تشکیل آبرو کیا ہے

مأخذ :

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے