میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے گا

قتیل شفائی

میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے گا

قتیل شفائی

MORE BYقتیل شفائی

    میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے گا

    آئی اک آواز کہ تو جس کا محسن کہلائے گا

    پوچھ سکے تو پوچھے کوئی روٹھ کے جانے والوں سے

    روشنیوں کو میرے گھر کا رستہ کون بتائے گا

    ڈالی ہے اس خوش فہمی نے عادت مجھ کو سونے کی

    نکلے گا جب سورج تو خود مجھ کو آن جگائے گا

    لوگو میرے ساتھ چلو تم جو کچھ ہے وہ آگے ہے

    پیچھے مڑ کر دیکھنے والا پتھر کا ہو جائے گا

    دن میں ہنس کر ملنے والے چہرے صاف بتاتے ہیں

    ایک بھیانک سپنا مجھ کو ساری رات ڈرائے گا

    میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا

    گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا

    سوکھ گئی جب آنکھوں میں پیار کی نیلی جھیل قتیلؔ

    تیرے درد کا زرد سمندر کاہے شور مچائے گا

    مآخذ:

    • کتاب : kalam-e-qateel shifai (Pg. 108)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY