میں اسے اپنے مقابل دیکھ کر گھبرا گیا
میں اسے اپنے مقابل دیکھ کر گھبرا گیا
اک سراپا مجھ کو زنجیریں نئی پہنا گیا
میں تو جل کر بجھ چکا تھا اک کھنڈر کی گود میں
وہ نہ جانے کیوں مجھے ہنستا ہوا یاد آ گیا
میں زمیں کی وسعتوں میں سر سے پا تک غرق تھا
وہ نظر کے سامنے اک آسماں پھیلا گیا
سوچ کے دھاگوں میں لپٹا میرا اپنا جسم تھا
ایک لمحہ مجھ کو اپنی ذات میں الجھا گیا
میں تو شاید وقت کے سانچے میں ڈھل جاتا نثارؔ
کوئی مجھ کو ماورا کی داستاں سمجھا گیا
- کتاب : Dariche (Pg. 23)
- Author : Bashir Saifi
- مطبع : Shakhsar Publishers (1975)
- اشاعت : 1975
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.