مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیے

مرزا غالب

مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیے

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیے

    بھوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے

    عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر

    آخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے

    دے داد اے فلک دل حسرت پرست کی

    ہاں کچھ نہ کچھ تلافئ مافات چاہیے

    سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوری

    تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے

    مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو

    اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے

    نشوونما ہے اصل سے غالبؔ فروع کو

    خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے

    ہے رنگ لالہ و گل و نسریں جدا جدا

    ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے

    سر پائے خم پہ چاہیے ہنگام بے خودی

    رو سوئے قبلہ وقت مناجات چاہیے

    یعنی بہ حسب گردش پیمانۂ صفات

    عارف ہمیشہ مست مے ذات چاہیے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY