موت کا جام ملا عشق کے میخانے سے
موت کا جام ملا عشق کے میخانے سے
واسطہ اب رہا شیشے سے نہ پیمانے سے
عشق بدنام ہوا چیخنے چلانے سے
سیکھ لے ضبط فغاں تو کسی پروانے سے
جام رکھنے کا یہ عادی ہے وہ فیاضی کا
اس لئے بنتی نہیں شیشے کی پیمانے سے
کسی وحشی کو نصیحت نہ تو کر اے ناصح
چھیڑ اچھی نہیں ہوتی کسی دیوانے سے
عمر بھر غم سے نہ چھوٹا کبھی دامن جوہرؔ
جھگڑے سب مٹ گئے اک موت کے جانے سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.