میرے غم کی منزل میں جیسے وہ بھی ٹھہرے ہیں
میرے غم کی منزل میں جیسے وہ بھی ٹھہرے ہیں
خواب جو نہیں دیکھے کس قدر سنہرے ہیں
مدتیں ہوئیں ان کو ایک بار دیکھا تھا
آج تک نگاہوں پر آنسوؤں کے پہرے ہیں
کب کسی کی سنتے ہیں ان کو دیکھنے والے
جن کی آنکھ روشن ہے ان کے کان بہرے ہیں
کم نہیں تغافل سے التفات بھی ان کا
داغ وہ بھی تازہ ہیں زخم یہ بھی گہرے ہیں
کیا خبر زمانے کو ہم سے کتنے دیوانے
زندگی کے دامن پر اشک بن کے ٹھہرے ہیں
دل میں کیا ہے باتوں سے کچھ پتہ نہیں چلتا
آج کل زمانے میں دوست کتنے گہرے ہیں
یادگار ماضی ہیں بدرؔ اپنے داغ دل
قافلے بہاروں کے اس جگہ بھی ٹھہرے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.