میرے سینے پر وہ سر رکھے ہوئے سوتا رہا

بشیر بدر

میرے سینے پر وہ سر رکھے ہوئے سوتا رہا

بشیر بدر

MORE BYبشیر بدر

    میرے سینے پر وہ سر رکھے ہوئے سوتا رہا

    جانے کیا تھی بات میں جاگا کیا روتا رہا

    شبنمی میں دھوپ کی جیسے وطن کا خواب تھا

    لوگ یہ سمجھے میں سبزے پر پڑا سوتا رہا

    وادیوں میں گاہ اترا اور کبھی پربت چڑھا

    بوجھ سا اک دل پہ رکھا ہے جسے ڈھوتا رہا

    گاہ پانی گاہ شبنم اور کبھی خوناب سے

    ایک ہی تھا داغ سینے میں جسے دھوتا رہا

    اک ہوائے بے تکاں سے آخرش مرجھا گیا

    زندگی بھر جو محبت کے شجر بوتا رہا

    رونے والوں نے اٹھا رکھا تھا گھر سر پر مگر

    عمر بھر کا جاگنے والا پڑا سوتا رہا

    رات کی پلکوں پہ تاروں کی طرح جاگا کیا

    صبح کی آنکھوں میں شبنم کی طرح روتا رہا

    روشنی کو رنگ کر کے لے گئے جس رات لوگ

    کوئی سایہ میرے کمرے میں چھپا روتا رہا

    مأخذ :
    • کتاب : Aasman (Pg. 46)
    • Author : Bashir Badar
    • مطبع : M.R. Publications (2011)
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY