ملتی ہے خوئے یار سے نار التہاب میں

مرزا غالب

ملتی ہے خوئے یار سے نار التہاب میں

مرزا غالب

MORE BY مرزا غالب

    ملتی ہے خوئے یار سے نار التہاب میں

    کافر ہوں گر نہ ملتی ہو راحت عذاب میں

    کب سے ہوں کیا بتاؤں جہان خراب میں

    شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں

    تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر

    آنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں

    قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں

    میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

    مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دور جام

    ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں

    جو منکر وفا ہو فریب اس پہ کیا چلے

    کیوں بد گماں ہوں دوست سے دشمن کے باب میں

    میں مضطرب ہوں وصل میں خوف رقیب سے

    ڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ و تاب میں

    میں اور حظ وصل خدا ساز بات ہے

    جاں نذر دینی بھول گیا اضطراب میں

    ہے تیوری چڑھی ہوئی اندر نقاب کے

    ہے اک شکن پڑی ہوئی طرف نقاب میں

    لاکھوں لگاؤ ایک چرانا نگاہ کا

    لاکھوں بناؤ ایک بگڑنا عتاب میں

    وہ نالہ دل میں خس کے برابر جگہ نہ پائے

    جس نالہ سے شگاف پڑے آفتاب میں

    وہ سحر مدعا طلبی میں نہ کام آئے

    جس سحر سے سفینہ رواں ہو سراب میں

    غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی

    پیتا ہوں روز ابر و شب ماہتاب میں

    مآخذ:

    • Book: Deewan-e-Ghalib Jadeed (Al-Maroof Ba Nuskha-e-Hameedia) (Pg. 277)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites