Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

طاقت نہیں ہے دل میں نے جی بجا رہا ہے

میر تقی میر

طاقت نہیں ہے دل میں نے جی بجا رہا ہے

میر تقی میر

طاقت نہیں ہے دل میں نے جی بجا رہا ہے

کیا ناز کر رہے ہو اب ہم میں کیا رہا ہے

جیب اور آستیں سے رونے کا کام گزرا

سارا نچوڑ اب تو دامن پر آ رہا ہے

اب چیت گر نہیں کچھ تازہ ہوا ہوں بیکل

آیا ہوں جب بہ خود میں جی اس میں جا رہا ہے

کاہے کا پاس اب تو رسوائی دور پہنچی

راز محبت اپنا کس سے چھپا رہا ہے

گرد رہ اس کی یا رب کس اور سے اٹھے گی

سو سو غزال ہر سو آنکھیں لگا رہا ہے

بندے تو طرحدار وہیں طرح کش تمہارے

پھر چاہتے ہو کیا تم اب اک خدا رہا ہے

دیکھ اس دہن کو ہر دم اے آرسی کہ یوں ہی

خوبی کا در کسو کے منہ پر بھی وا رہا ہے

وے لطف کی نگاہیں پہلے فریب ہیں سب

کس سے وہ بے مروت پھر آشنا رہا ہے

اتنا خزاں کرے ہے کب زرد رنگ پر یاں

تو بھی کسو نگہ سے اے گل جدا رہا ہے

رہتے ہیں داغ اکثر نان و نمک کی خاطر

جینے کا اس سمیں میں اب کیا مزہ رہا ہے

اب چاہتا نہیں ہے بوسہ جو تیرے لب سے

جینے سے میرؔ شاید کچھ دل اٹھا رہا ہے

مأخذ :
  • کتاب : MIRIYAAT - Diwan No- 1, Ghazal No- 0555

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے