مرے لوگ خیمۂ صبر میں مرے شہر گرد ملال میں

اسعد بدایونی

مرے لوگ خیمۂ صبر میں مرے شہر گرد ملال میں

اسعد بدایونی

MORE BYاسعد بدایونی

    مرے لوگ خیمۂ صبر میں مرے شہر گرد ملال میں

    ابھی کتنا وقت ہے اے خدا ان اداسیوں کے زوال میں

    کبھی موج خواب میں کھو گیا کبھی تھک کے ریت پہ سو گیا

    یوں ہی عمر ساری گزار دی فقط آرزوئے وصال میں

    کہیں گردشوں کے بھنور میں ہوں کسی چاک پر میں چڑھا ہوا

    کہیں میری خاک جمی ہوئی کسی دشت برف مثال میں

    یہ ہوائے غم یہ فضائے نم مجھے خوف ہے کہ نہ ڈال دے

    کوئی پردہ میری نگاہ پر کوئی رخنہ تیرے جمال میں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    مرے لوگ خیمۂ صبر میں مرے شہر گرد ملال میں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY