Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مری نظر سے جو نظریں بچائے بیٹھے ہیں

اقبال حسین رضوی اقبال

مری نظر سے جو نظریں بچائے بیٹھے ہیں

اقبال حسین رضوی اقبال

MORE BYاقبال حسین رضوی اقبال

    مری نظر سے جو نظریں بچائے بیٹھے ہیں

    خبر بھی ہے انہیں کیا گل کھلائے بیٹھے ہیں

    ہزار بار جلے جس سے بال و پر اپنے

    اسی چراغ سے ہم لو لگائے بیٹھے ہیں

    جو شاخ شوخیٔ برق تپاں سے ہے مانوس

    اسی پہ آج نشیمن بنائے بیٹھے ہیں

    پھر اس کے وعدۂ فردا کا ہو یقیں کیسے

    ہزار بار جسے آزمائے بیٹھے ہیں

    شب فراق کی ہم تیرگی سے گھبرا کر

    چراغ زخم غم دل جلائے بیٹھے ہیں

    اسے حجاب کہوں یا کہوں پشیمانی

    مرے مزار پہ وہ سر جھکائے بیٹھے ہیں

    ہم ایک قطرۂ قلب حزیں میں اے اقبالؔ

    غم حیات کے طوفاں چھپائے بیٹھے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : SAAZ-O-NAVA (Pg. 46)
    • مطبع : Raghu Nath suhai ummid

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 13-14-15 December 2024 - Jawaharlal Nehru Stadium , Gate No. 1, New Delhi

    Get Tickets
    بولیے