مری رگوں میں لہو بے قرار کیسا ہے
یہ صبح و شام مجھے انتظار کیسا ہے
یہاں کسی کے بھی آنے کی جب امید نہیں
تو پھر یہ راہ میں گرد و غبار کیسا ہے
میں آرزوؤں سے پیچھا چھڑا چکا کب کا
تو میرے ذہن میں یہ انتشار کیسا ہے
کبھی تو بند دریچوں کو کھول کر دیکھو
کہ اب یہ شور سر رہ گزار کیسا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.