محبت کی گواہی اپنے ہونے کی خبر لے جا

غلام محمد قاصر

محبت کی گواہی اپنے ہونے کی خبر لے جا

غلام محمد قاصر

MORE BYغلام محمد قاصر

    محبت کی گواہی اپنے ہونے کی خبر لے جا

    جدھر وہ شخص رہتا ہے مجھے اے دل! ادھر لے جا

    سجی ہے بزم شبنم تو تبسم کام آئے گا

    تعارف پھول کا درپیش ہے تو چشم تر لے جا

    اندھیرے میں گیا وہ روشنی میں لوٹ آئے گا

    دیا جو دل میں جلتا ہے اسی کو بام پر لے جا

    اڑانوں آسمانوں آشیانوں کے لیے طائر!

    یہ پر ٹوٹے ہوئے میرے یہ معیار نظر لے جا

    زمانوں کو اڑانیں برق کو رفتار دیتا تھا

    مگر مجھ سے کہا ٹھہرے ہوئے شام و سحر لے جا

    کوئی منہ پھیر لیتا ہے تو قاصرؔ اب شکایت کیا

    تجھے کس نے کہا تھا آئنے کو توڑ کر لے جا

    مآخذ
    • کتاب : Funoon (Monthly) (Pg. 367)
    • Author : Ahmad Nadeem Qasmi
    • مطبع : Ahmad Nadeem Qasmi (Edition Nov. Dec. 1985,Issue No. 23)
    • اشاعت : Edition Nov. Dec. 1985,Issue No. 23

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY