Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

محبتوں کے یہ دریا اتر نہ جائیں کہیں

عبید اللہ علیم

محبتوں کے یہ دریا اتر نہ جائیں کہیں

عبید اللہ علیم

MORE BYعبید اللہ علیم

    محبتوں کے یہ دریا اتر نہ جائیں کہیں

    جو دل گلاب ہیں زخموں سے بھر نہ جائیں کہیں

    ابھی تو وعدہ و پیماں ہے اور یہ حال اپنا

    وصال ہو تو خوشی سے ہی مر نہ جائیں کہیں

    یہ رنگ چہرے کے اور خواب اپنی آنکھوں کے

    ہوا چلے کوئی ایسی بکھر نہ جائیں کہیں

    جھلک رہا ہے جن آنکھوں سے اب وجود مرا

    یہ آنکھیں ہائے یہ آنکھیں مکر نہ جائیں کہیں

    پکارتی ہی نہ رہ جائے یہ زمیں پیاسی

    برسنے والے یہ بادل گزر نہ جائیں کہیں

    نڈھال اہل طرب ہیں کہ اہل گلشن کے

    بجھے بجھے سے یہ چہرے سنور نہ جائیں کہیں

    فضائے شہر عقیدوں کی دھند میں ہے اسیر

    نکل کے گھر سے اب اہل نظر نہ جائیں کہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے