مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے

مرزا غالب

مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    INTERESTING FACT

    غزل کے ایک شعر 'دل ڈھونڈھتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن' کا استعمال گئلزار نے اپنی فلم موسم ( 1975 ) میں کیا

    مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے

    جوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے

    کرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کو

    عرصہ ہوا ہے دعوت مژگاں کیے ہوئے

    پھر وضع احتیاط سے رکنے لگا ہے دم

    برسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے

    پھر گرم نالہ ہائے شرربار ہے نفس

    مدت ہوئی ہے سیر چراغاں کیے ہوئے

    پھر پرسش جراحت دل کو چلا ہے عشق

    سامان صدہزار نمکداں کیے ہوئے

    پھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خون دل

    ساز چمن طرازی داماں کیے ہوئے

    باہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیب

    نظارہ و خیال کا ساماں کیے ہوئے

    دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے

    پندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے

    پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلب

    عرض متاع عقل و دل و جاں کیے ہوئے

    دوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیال

    صد گلستاں نگاہ کا ساماں کیے ہوئے

    پھر چاہتا ہوں نامۂ دل دار کھولنا

    جاں نذر دل فریبی عنواں کیے ہوئے

    مانگے ہے پھر کسی کو لب بام پر ہوس

    زلف سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے

    چاہے ہے پھر کسی کو مقابل میں آرزو

    سرمے سے تیز دشنۂ مژگاں کیے ہوئے

    اک نو بہار ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ

    چہرہ فروغ مے سے گلستاں کیے ہوئے

    پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں

    سر زیر بار منت درباں کیے ہوئے

    جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن

    بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

    غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے

    بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کیے ہوئے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    انیتا سنگھوی

    انیتا سنگھوی

    اقبال بانو

    اقبال بانو

    نور جہاں

    نور جہاں

    بھوپندر سنگھ

    بھوپندر سنگھ

    محمد رفیع

    محمد رفیع

    اقبال بانو

    اقبال بانو

    RECITATIONS

    شمس الرحمن فاروقی

    شمس الرحمن فاروقی

    اقبال بانو

    اقبال بانو

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    شمس الرحمن فاروقی

    مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے شمس الرحمن فاروقی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY