مجھ کو درکار نہیں آج یا کل کی لذت
مجھ کو درکار نہیں آج یا کل کی لذت
ایسا پھل چاہیے ہو جس میں ازل کی لذت
نرم ہاتھوں سے مجھے چھو کے گزرتی ہوئی وہ
ہائے ہوتی ہوئی محسوس یہ ہلکی لذت
ہاتھ آئی ہے کئی بار تری شاخ بدن
میں کئی بار چکھا ہوں ترے پھل کی لذت
ہو گئی ختم مگر داد نہ دینا چھوڑو
ابھی محسوس کیے جاؤ غزل کی لذت
سب نہیں کہتے ہیں اس بحر میں غزلیں صاحب
سب نہیں جانتے ہیں بحر رمل کی لذت
کیا ضرورت ہے وہ تا عمر میسر ہو دریبؔ
بھول پاؤں گا نہیں ایک ہی پل کی لذت
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.