مستقبل روشن تر کہیے
لیکن آنکھ ملا کر کہیے
بربادی کو منظر کہیے
کہیے سوچ سمجھ کر کہیے
سمجھایا تھا دیکھ کے چلیے
کیسی کھائی ٹھوکر کہیے
دم گھٹنے کی بات الگ ہے
طوق گلو کو زیور کہیے
آنسو ہیں قانون سے باہر
غم کی باتیں ہنس کر کہیے
آئینہ دکھلانا ہوگا
سچی باتیں منہ پر کہیے
شیخی کی بھی حد ہوتی ہے
کب تک بہتر بہتر کہیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.