نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میں

کیف بھوپالی

نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میں

کیف بھوپالی

MORE BYکیف بھوپالی

    نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میں

    سحر ہو گئی چند انگڑائیوں میں

    نہ رنگینیوں میں نہ رعنائیوں میں

    نظر گھر گئی اپنی پرچھائیوں میں

    مجھے مسکرا مسکرا کر نہ دیکھو

    مرے ساتھ تم بھی ہو رسوائیوں میں

    غضب ہو گیا ان کی محفل سے آنا

    گھرا جا رہا ہوں تماشائیوں میں

    محبت ہے یا آج ترک محبت

    ذرا مل تو جائیں وہ تنہائیوں میں

    ادھر آؤ تم کو نظر لگ نہ جائے

    چھپا لوں تمہیں دل کی گہرائیوں میں

    ارے سننے والو یہ نغمے نہیں ہیں

    مرے دل کی چیخیں ہیں شہنائیوں میں

    وہ اے کیفؔ جس دن سے میرے ہوئے ہیں

    تو سارا زمانہ ہے شیدائیوں میں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY