نہ دولت کی طلب تھی اور نہ دولت چاہئے ہے

فرحت ندیم ہمایوں

نہ دولت کی طلب تھی اور نہ دولت چاہئے ہے

فرحت ندیم ہمایوں

MORE BYفرحت ندیم ہمایوں

    نہ دولت کی طلب تھی اور نہ دولت چاہئے ہے

    محبت چاہئے تھی بس محبت چاہئے ہے

    سہا جاتا نہیں ہم سے غم ہجر مسلسل

    ذرا سی دیر کو تیری رفاقت چاہئے ہے

    ترا دیدار ہو آنکھیں کسی بھی سمت دیکھیں

    سو ہر چہرے میں اب تیری شباہت چاہئے ہے

    کیا ہے تو نے جب ترک تعلق کا ارادہ

    ہمیں بھی فیصلہ کرنے کی مہلت چاہئے ہے

    یہ کیوں کہتے ہو راہ عشق پر چلنا ہے ہم کو

    کہو کہ زندگی سے اب فراغت چاہئے ہے

    نہیں ہوتی ہے راہ عشق میں آسان منزل

    سفر میں بھی تو صدیوں کی مسافت چاہئے ہے

    غم جاناں کے بھی کچھ دیر تو ہم ناز اٹھا لیں

    غم دوراں سے تھوڑے دن کی رخصت چاہئے ہے

    ہر اک اپنی ضرورت کے تحت ہم سے ہے ملتا

    ہمیں بھی اب کوئی حسب ضرورت چاہئے ہے

    ہے جب سے منعکس چہرہ بدلنے کا وہ منظر

    ہماری آئنہ آنکھوں کو حیرت چاہئے ہے

    جو نکلیں عالم وحشت سے پھر کچھ اور سوچیں

    خرد سے رابطے رکھنے کو فرصت چاہئے ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY