نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا

بہادر شاہ ظفر

نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا

بہادر شاہ ظفر

MORE BYبہادر شاہ ظفر

    نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا

    مجھے تو ہوش دے اتنا رہوں میں تجھ پہ دیوانا

    کتابوں میں دھرا ہے کیا بہت لکھ لکھ کے دھو ڈالیں

    ہمارے دل پہ نقش کالجحر ہے تیرا فرمانا

    غنیمت جان جو دم گزرے کیفیت سے گلشن میں

    دئے جا ساقیٔ پیماں شکن بھر بھر کے پیمانا

    نہ دیکھا وہ کہیں جلوہ جو دیکھا خانۂ دل میں

    بہت مسجد میں سر مارا بہت سا ڈھونڈا بت خانا

    کچھ ایسا ہو کہ جس سے منزل مقصود کو پہنچوں

    طریق پارسائی ہووے یا ہو راہ رندانا

    یہ ساری آمد و شد ہے نفس کی آمد و شد پر

    اسی تک آنا جانا ہے نہ پھر جانا نہ پھر آنا

    ظفرؔ وہ زاہد بے درد کی ہو حق سے بہتر ہے

    کرے گر رند درد دل سے ہاو ہوئے مستانا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY