نہ کل تک تھے وہ منہ لگانے کے قابل
نہ کل تک تھے وہ منہ لگانے کے قابل
ہوئے آج باتیں بنانے کے قابل
تری بندگی اور سیہ کار مجھ سا
یہ سر اور ترے آستانے کے قابل
لب زخم دل پر یہ ہے شور قاتل
تری تیغ کا پھل ہے کھانے کے قابل
نکالے صنم پیٹ سے پاؤں تم نے
ہوئے جب کہیں آنے جانے کے قابل
دل بوالہوس لائق داغ الفت
یہ درہم نہ تھے اس خزانے کے قابل
ان آئینہ رویوں کی الفت نے اے دل
نہ رکھا ہمیں منہ دکھانے کے قابل
یہاں سو ہیں کھٹکے چلو اس چمن سے
نہیں یہ جگہ آشیانے کے قابل
پتنگے ہیں گستاخ اے شمع پیکر
نہیں تیری محفل میں آنے کے قابل
کوئی اس کے دزد حنا سے یہ کہہ دے
مرا نقد دل ہے چرانے کے قابل
کبھی خون میں میرے بھی ہاتھ تر کر
یہ مہندی ہے تیرے لگانے کے قابل
فلک کیا رلایا کرے گا ہمیشہ
کبھی ہم بھی ہوں گے ہنسانے کے قابل
مریض محبت تمہارا ہے لاغر
نہیں یار فرقت اٹھانے کے قابل
کسے دیکھیں ہم اور دکھلائیں کس کو
نہ اب دیکھنے نے دکھانے کے قابل
غش استادیوں پر ہیں جانیں نہ پوچھیں
قلقؔ ایسے ہیں اس زمانے کے قابل
- Mazhar-e-Ishq
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.